حدیث نمبر: 4138
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ , وَحُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ , يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ , وَرُزِقَ الْكَفَافَ وَقَنَعَ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کو اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی ، اور ضرورت کے مطابق روزی ملی ، اور اس نے اس پر قناعت کی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزکاة 43 ( 1054 ) ، سنن الترمذی/الزھد 35 ( 2348 ) ، ( تحفة الأشراف : 8848 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/168 ، 172 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1054 | سنن ترمذي: 2348

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قناعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کو اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اور ضرورت کے مطابق روزی ملی، اور اس نے اس پر قناعت کی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4138]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام سب سے بڑی دولت ہے کیونکہ اس میں آخرت میں جنت ملتی ہے جس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔

(2)
رزق كفاف کا مطلب اتنی روزی ہے جس سے بنیادی ضروریات بغیر فضول خرچی کے پوری ہوتی رہیں اور قرض اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے۔

(3)
کامیابی دولت کے ڈھیر جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ موجود رزق پر قناعت اور شکر اصل اور بڑی دولت اور بڑی کامیابی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4138 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1054 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کامیاب و با مراد وہ انسان جو مسلمان ہو گیا اور اسے بقدر کفاف روزی ملی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2426]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اللہ تعالیٰ جس بندہ کو ایمان و اسلام کی دولت نصیب فرمائے اور ساتھ ہی اس دنیا میں رہنے سہنے کے لیے بقدر ضرورت سامان فراہم فرمائے تاکہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قناعت اور طمانیت کی دولت بھی نصیب فرما دے۔
تو یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور اس کےلئے کا میابی و کامرانی کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1054 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2348 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے (اپنے دئیے ہوئے پر) «قانع» بنا دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2348]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آخرت کی کامیابی کا دارومدارصرف اورصرف اسلام ہے، اگر بدقسمتی سے کسی کا دامن دولت اسلام سے خالی رہا تو دنیا بھر کے خزانے اسے اخروی کامیابی سے ہمکنارنہیں کرسکتے، اسی طرح بقدرضرورت اوربرابرسرابر والی زندگی میں جو امن وسکون میسر ہے وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی خواہش رکھنے والے انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، گویا بقدرکفاف روزی کے ساتھ قناعت واستغنا کا مل جانا امن وسکون کی ضمانت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2348 سے ماخوذ ہے۔