سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابٌ في الْمُكْثِرِينَ باب: مالداروں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ , حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ , عَنْ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ , عَنْ نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً , فَرَدَّهُ , ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ آخَرَ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ , فَلَمَّا أَبْصَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ بَعَثَ بِهَا " , قَالَ نُقَادَةُ : فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا ؟ قَالَ : " وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا " , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلَانٍ " , لِلْمَانِعِ الْأَوَّلِ , " وَاجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ يَوْمًا بِيَوْمٍ " لِلَّذِي بَعَثَ بِالنَّاقَةِ .
´نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک شخص کے پاس اونٹنی مانگنے کے لیے بھیجا ، لیکن اس نے انکار کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیجا تو اس نے ایک اونٹنی بھیج دی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے اور جس نے اس کو بھیجا ہے اس میں بھی برکت عطا کرے “ ۔ نقادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : یہ بھی دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی برکت دے جو اسے لے آیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں جو اسے لایا ہے اس کو بھی برکت دے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا دودھ دوہا گیا ، اس نے بہت دودھ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ( پہلے اونٹنی نہ دینے والا شخص ) کا مال زیادہ کر دے ، اور جس نے اونٹنی بھیجی ہے اس کو رزق یومیہ دے “ ۔