سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابٌ في الْمُكْثِرِينَ باب: مالداروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَأَبُو كُرَيْبٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " وَيْلٌ لِلْمُكْثِرِينَ , إِلَّا مَنْ قَالَ : بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا , وَهَكَذَا وَهَكَذَا " أَرْبَعٌ عَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ شِمَالِهِ , وَمِنْ قُدَّامِهِ , وَمِنْ وَرَائِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تباہی ہے زیادہ مال والوں کے لیے سوائے اس کے جو مال اپنے اس طرف ، اس طرف ، اس طرف اور اس طرف خرچ کرے ، دائیں ، بائیں ، اور اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف خرچ کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مالداروں کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تباہی ہے زیادہ مال والوں کے لیے سوائے اس کے جو مال اپنے اس طرف، اس طرف، اس طرف اور اس طرف خرچ کرے، دائیں، بائیں، اور اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف خرچ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4129]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تباہی ہے زیادہ مال والوں کے لیے سوائے اس کے جو مال اپنے اس طرف، اس طرف، اس طرف اور اس طرف خرچ کرے، دائیں، بائیں، اور اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف خرچ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4129]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال حرص اور بخل کے ذریعے جمع ہوتا ہے اور یہ دونوں مذموم خصلتیں ہیں۔
(2)
جائز طریقے سے کمایا ہوامال بھی اللہ کی راہ میں اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا ضروری ہے اپنی ذاتی آسائشات اور تعیشات پر مال صرف کرنا درست نہیں۔
(3)
سخاوت کرنے والا ہلاکت سے محفوظ ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا مال اس کے لیے نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
جس قدر زیادہ خرچ کرے گا اتنا ہی جنت میں بلند درجات کا مستحق ہوگا۔
فوائد و مسائل:
(1)
مال حرص اور بخل کے ذریعے جمع ہوتا ہے اور یہ دونوں مذموم خصلتیں ہیں۔
(2)
جائز طریقے سے کمایا ہوامال بھی اللہ کی راہ میں اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا ضروری ہے اپنی ذاتی آسائشات اور تعیشات پر مال صرف کرنا درست نہیں۔
(3)
سخاوت کرنے والا ہلاکت سے محفوظ ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا مال اس کے لیے نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
جس قدر زیادہ خرچ کرے گا اتنا ہی جنت میں بلند درجات کا مستحق ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4129 سے ماخوذ ہے۔