حدیث نمبر: 4128
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا سِتَّةٍ فِيَّ وَفِي ابْنِ مَسْعُودٍ , وَصُهَيْبٍ , وَعَمَّارٍ , وَالْمِقْدَادِ , وَبِلَالٍ , قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نَرْضَى أَنْ نَكُونَ أَتْبَاعًا لَهُمْ فَاطْرُدْهُمْ عَنْكَ , قَالَ : فَدَخَلَ قَلْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْخُلَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` یہ آیت «ولا تطرد» ہم چھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی : میرے ، ابن مسعود ، صہیب ، عمار ، مقداد اور بلال رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں ، قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے ، آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے نکال دیجئیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وہ بات داخل ہو گئی جو اللہ تعالیٰ کی مشیت میں تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه» ” اور ان لوگوں کو مت نکالئے جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں ، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں “ ( سورۃ الأنعام : ۵۲ ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 ( 2413 ) ، ( تحفة الأشراف : 3865 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2413

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2413 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:"ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں ابن مسعود ہذیل کا ایک شخص بلال اور دواور شخص جن کا نام میں نہیں لو ں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سوآیا،آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا: بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6241]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں، ان کی خواہش پر، ان کے ایمان لانے کی امید پر یہ خیال آیا کہ ان سرداروں کی آمد پر ان کو مجلس سے اٹھا دیں، تاکہ ان سرداروں کے ذریعہ اسلام پھیلانے میں سہولت پیدا ہو جائے اور یہ لوگ تو کسی اور وقت بھی حاضر ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی، اس لیے آپ کو مشرکوں کی ناز برداری سے روک دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2413 سے ماخوذ ہے۔