سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ باب: فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا سِتَّةٍ فِيَّ وَفِي ابْنِ مَسْعُودٍ , وَصُهَيْبٍ , وَعَمَّارٍ , وَالْمِقْدَادِ , وَبِلَالٍ , قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نَرْضَى أَنْ نَكُونَ أَتْبَاعًا لَهُمْ فَاطْرُدْهُمْ عَنْكَ , قَالَ : فَدَخَلَ قَلْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْخُلَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 .
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` یہ آیت «ولا تطرد» ہم چھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی : میرے ، ابن مسعود ، صہیب ، عمار ، مقداد اور بلال رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں ، قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے ، آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے نکال دیجئیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وہ بات داخل ہو گئی جو اللہ تعالیٰ کی مشیت میں تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه» ” اور ان لوگوں کو مت نکالئے جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں ، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں “ ( سورۃ الأنعام : ۵۲ ) ۔