سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ باب: فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 4126
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ : أَحِبُّوا الْمَسَاكِينَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا , وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا , وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مسکینوں اور فقیروں سے محبت کرو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں کہتے ہوئے سنا ہے : ” «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين» اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ ، مسکین بنا کر فوت کر ، اور میرا حشر مسکینوں کے زمرے میں کر “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسکینوں اور فقیروں سے محبت کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں کہتے ہوئے سنا ہے: ” «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين» اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین بنا کر فوت کر، اور میرا حشر مسکینوں کے زمرے میں کر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4126]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسکینوں اور فقیروں سے محبت کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں کہتے ہوئے سنا ہے: ” «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين» اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین بنا کر فوت کر، اور میرا حشر مسکینوں کے زمرے میں کر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4126]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قراردیا ہے۔
شیخ البانی نے إرواء الغلیل: 3/ 358، 363 رقم: 861)
(2)
نادار اور مسکین سے ہمدردی محبت اور احترام کا سلوک کرنا چاہیے۔
(3)
نبی ﷺ کا فقر اختیاری تھا یعنی غنیمت، فے اور خمس وغیرہ کی کثیر آمدنی ہونے کے باوجود سادہ زندگی گزارتے تھے اور آمدنی مدد کے مستحق افراد پر نیکی کے کاموں میں خرچ کردیتے تھے۔
(4)
آدمی دولت مند ہونے کے باوجود فقر کا ثواب حاصل کر سکتا ہے جب دل میں مال کی محبت نہ رکھے بلکہ مال دوسروں پر خرچ کرے اور خود اپنی ضروریات کو محدود رکھتے ہوئے سادہ زندگی بسر کرے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قراردیا ہے۔
شیخ البانی نے إرواء الغلیل: 3/ 358، 363 رقم: 861)
(2)
نادار اور مسکین سے ہمدردی محبت اور احترام کا سلوک کرنا چاہیے۔
(3)
نبی ﷺ کا فقر اختیاری تھا یعنی غنیمت، فے اور خمس وغیرہ کی کثیر آمدنی ہونے کے باوجود سادہ زندگی گزارتے تھے اور آمدنی مدد کے مستحق افراد پر نیکی کے کاموں میں خرچ کردیتے تھے۔
(4)
آدمی دولت مند ہونے کے باوجود فقر کا ثواب حاصل کر سکتا ہے جب دل میں مال کی محبت نہ رکھے بلکہ مال دوسروں پر خرچ کرے اور خود اپنی ضروریات کو محدود رکھتے ہوئے سادہ زندگی بسر کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4126 سے ماخوذ ہے۔