حدیث نمبر: 4125
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَبُو يَحْيَى , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : كَانَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ , وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ : " أَبَا الْمَسَاكِينِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسکینوں سے محبت کرتے تھے ، ان کے ساتھ بیٹھتے ، اور ان سے باتیں کیا کرتے تھے ، اور وہ لوگ بھی ان سے باتیں کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوالمساکین رکھی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (3766), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 525
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12943 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں اسماعیل بن ابراہیم ضعیف ہیں ، ابراہیم المخزومی متروک ) ۔ یہ حدیث اس سند سے گرچہ ضعیف ہے ، لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول صحیح بخاری میں ہے کہ جعفر مسکینوں اور فقیروں کے حق میں بہت اچھے تھے ، وہ ہمیں اپنے گھر میں موجود کھانا کھلاتے تھے ، حتی کہ کپّی نکال کر ہمارے پاس لاتے ، جس میں کچھ نہ ہوتا ، تو ہم اس کو پھاڑ کر چاٹ لیتے تھے۔ ( صحیح البخاری/الأطعمة 32 ( 5432 ) ۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3766

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3766 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چنانچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3766]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ابراہیم بن الفضل ابواسحاق متروک ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3766 سے ماخوذ ہے۔