سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً باب: ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 412
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنْبَأَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، " تَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔`
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 412]
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 412]
اردو حاشہ:
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی ؒ نے حسن اور الموسوعة الحديثية کے محققین نے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے نیز انھوں نے کہا ہے کہ اس مسئلہ کی بابت صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ایک دفعہ وضو کیا تو وضو کے اعضاء کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعه الحديثية مسند أحمد: 293/1، حديث: 151، 149)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی ؒ نے حسن اور الموسوعة الحديثية کے محققین نے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے نیز انھوں نے کہا ہے کہ اس مسئلہ کی بابت صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ایک دفعہ وضو کیا تو وضو کے اعضاء کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعه الحديثية مسند أحمد: 293/1، حديث: 151، 149)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 412 سے ماخوذ ہے۔