حدیث نمبر: 4117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي , مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ , غَامِضٌ فِي النَّاسِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ , كَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا وَصَبَرَ عَلَيْهِ , عَجِلَتْ مَنِيَّتُهُ , وَقَلَّ تُرَاثُهُ , وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے ، جو مال و دولت آل و اولاد سے ہلکا پھلکا ہو ، جس کو نماز میں راحت ملتی ہو ، لوگوں میں گم نام ہو ، اور لوگ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوں ، اس کا رزق بس گزر بسر کے لیے کافی ہو ، وہ اس پر صبر کرے ، اس کی موت جلدی آ جائے ، اس کی میراث کم ہو ، اور اس پر رونے والے کم ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, صدقة بن عبد اللّٰه السمين و أيوب بن سليمان: ضعيفان (تقريب: 2913،614), وقال الھيثمي في صدقة: وقد وثقه الجمھور (مجمع الزوائد 41/5), و قال: والأكثر علي تضعيفه (مجمع الزوائد 80/1), و ھذا ھو الصواب وللحديث طرق كلها ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 525
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4853 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الزہد 35 ، ( 2347 ) ، مسند احمد ( 5/252 ، 255 ) ( ضعیف ) » ( ایوب بن سلیمان اور صدقہ بن عبد اللہ ضعیف ہیں ، تراجع الألبانی : رقم : 364 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2347 | مسند الحميدي: 933

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 933 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
933- سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میرے ساتھیوں میں قدرو منزلت کے اعتبار سے میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک وہ مومن ہے، جس کی پشت کا بوجھ کم ہو (یعنی جس کا مال اور عیال کم ہوں) جو بکثرت نوافل ادا کرتا ہو اگرچہ وہ لوگوں میں مشہور نہ ہو۔ جب اسے موت آجائے، تواس پر رونے والے کم ہوں اور اس کی وراثت کا مال بھی کم ہو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:933]
فائدہ:
اس حدیث سے نیک گمنامی کو پسند کر نے والے غریب انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 932 سے ماخوذ ہے۔