حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ , قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ , تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى , وَأَسُدَّ فَقْرَكَ , وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ , مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا , وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم ! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا ، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا ، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا ، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/صفة القیامة 30 ( 2466 ) ، ( تحفة الأشراف : 14881 ) ، وقد أخرجہ : ( حم 2/358 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2466

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دنیا کے غم و فکر کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4107]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان کی تخلیق کا اصل مقصد عبادت ہے روزی کمانے کا مقصد صرف اتنی جسمانی قوت کا حصول ہے جس سے اللہ کے احکام کی تعمیل کما حقہ ہوسکے۔

(2)
عبادت کے لیے فارغ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ روز مرہ کے پروگرام میں بنیادی اہمیت عبادت کو دی جائے اور دنیاوی ضروریات کے دوران میں بھی اللہ کے احکام کی تعمیل کی نیت ہو، تاکہ یہ اعمال بھی عبادت بن جائیں۔

(3)
دینی اور دنیاوی اعمال میں فرائض کو نوافل پر فوقیت حاصل ہے لہٰذا اگر کسی نفلی عمل سے فرض کی ادائیگی متاثر ہوتی ہوتو فرض کو اہمیت دی جائے نفلی کام کو کسی اور مناسب موقع کے لیے مؤخر کردیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4107 سے ماخوذ ہے۔