سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً باب: ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ الثُّمَالِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، قُلْتُ لَهُ : حَدَّثْتَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا ، قَالَ : نَعَمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بن ابوصفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ` میں نے ابوجعفر سے پوچھا : کیا آپ کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا ، کہا : ہاں ، میں نے کہا : اور دو دو بار اور تین تین بار ؟ کہا : ہاں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 45 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان۔`
ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (بیان کیا ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 45]
ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (بیان کیا ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 45]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔