سنن ابن ماجه
كتاب السنة— کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
بَابُ : مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ باب: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 41]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 41]
اردو حاشہ:
ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے اور حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا تمام جہان کے جھوٹ سے بدتر ہے۔
ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے اور حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا تمام جہان کے جھوٹ سے بدتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 41 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 4 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
علی ابنِ ابی ربیعہ والبیؒ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں پہنچا، جس وقت کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہؓ تھے توحضرت مغیرہؓ نے بیان کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’میری طرف بات منسوب کرنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے کی طرح نہیں ہے، جو مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے گا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
آپ ﷺ کی طرف جو بات منسوب ہوگی، وہ دین وشریعت بن جائے گی، لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی، اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا، اتنا ہلکا اور آسان نہیں ہے، جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے، کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا، جو آپ ﷺ کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
آپ ﷺ کی طرف جو بات منسوب ہوگی، وہ دین وشریعت بن جائے گی، لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی، اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا، اتنا ہلکا اور آسان نہیں ہے، جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے، کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا، جو آپ ﷺ کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4 سے ماخوذ ہے۔