حدیث نمبر: 4099
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ , عِرَاضَ الْوُجُوهِ , كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ , كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ , يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ , وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ , يَرْبُطُونَ خَيْلَهُمْ بِالنَّخْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے ، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں ، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں ، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ترکوں کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4099]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4099]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پہلی تین حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دوقوموں سے جنگ ہوگی۔
ایک قوم کی علامت ان کے چوڑے چہرےچپٹی ناکیں اور چھوٹی آنکھیں ہیں۔
اور دوسری قوم کی علامت بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہننا ہے۔
دوسری حدیث میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں صفات ایک ہی قوم میں پائی جائیں گی۔
ممکن ہے دونوں قومیں مل کر جنگ کریں اور ممکن ہے کہ یہ دونوں ایک ہی قوم کی دو شاخیں ہوں۔
(2)
علامہ بیضاوی بیان کرتے ہیں: ان چہروں کو ڈھال سے تشبیہ دینے کی وجہ سے ان کے نقوش کا چپٹا ہونا اور چہروں کا گول ہونا ہے۔
اور تہ دار کہنے سے پراد ان کا موٹا اور زیادہ گوشت والے ہونا ہے۔ (فتح الباریي: 6/ 743)
(3)
حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے محمد بن عباد کا ایک قول نقل کیا ہےکہ بابک خرمی کے متبعین بالوں کے جوتے پہنتے تھے۔
یہ زندیق لوگ تھے جو حرام چیزوں کو حلال قراردیتے تھے۔
خلیفہ مامون الرشید کے دور میں انھوں نے بہت زور پکڑلیا تھا۔
طبرستان اور رے وغیرہ کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔
بابک خلیفہ معتصم کے دور حکومت میں 222 ہجری میں قتل ہوا۔
(4)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان سے مراد اہل بارز یعنی کرد ہیں۔ (صحيح البخاري، المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، حديث: 3591)
والله اعلم)
فوائد و مسائل:
(1)
پہلی تین حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دوقوموں سے جنگ ہوگی۔
ایک قوم کی علامت ان کے چوڑے چہرےچپٹی ناکیں اور چھوٹی آنکھیں ہیں۔
اور دوسری قوم کی علامت بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہننا ہے۔
دوسری حدیث میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں صفات ایک ہی قوم میں پائی جائیں گی۔
ممکن ہے دونوں قومیں مل کر جنگ کریں اور ممکن ہے کہ یہ دونوں ایک ہی قوم کی دو شاخیں ہوں۔
(2)
علامہ بیضاوی بیان کرتے ہیں: ان چہروں کو ڈھال سے تشبیہ دینے کی وجہ سے ان کے نقوش کا چپٹا ہونا اور چہروں کا گول ہونا ہے۔
اور تہ دار کہنے سے پراد ان کا موٹا اور زیادہ گوشت والے ہونا ہے۔ (فتح الباریي: 6/ 743)
(3)
حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے محمد بن عباد کا ایک قول نقل کیا ہےکہ بابک خرمی کے متبعین بالوں کے جوتے پہنتے تھے۔
یہ زندیق لوگ تھے جو حرام چیزوں کو حلال قراردیتے تھے۔
خلیفہ مامون الرشید کے دور میں انھوں نے بہت زور پکڑلیا تھا۔
طبرستان اور رے وغیرہ کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔
بابک خلیفہ معتصم کے دور حکومت میں 222 ہجری میں قتل ہوا۔
(4)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان سے مراد اہل بارز یعنی کرد ہیں۔ (صحيح البخاري، المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، حديث: 3591)
والله اعلم)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4099 سے ماخوذ ہے۔