حدیث نمبر: 4095
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ , حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ هُدْنَةٌ , فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ , فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً , تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اور بنی اصفر ( رومیوں ) کے درمیان صلح ہو گی ، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے ، اور تمہارے مقابلے کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے ، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجزیة 15 ( 3176 ) ، سنن ابی داود/الأدب 92 ( 5000 ، 5001 ) ، ( تحفة الأشراف : 10918 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اہم حادثات اور فتنوں کا بیان۔`
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور بنی اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے، اور تمہارے مقابلے کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4095]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل کے لیے دیکھیے حدیث: 4042۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4095 سے ماخوذ ہے۔