حدیث نمبر: 4090
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَتِ الْمَلَاحِمُ , بَعَثَ اللَّهُ بَعْثًا مِنَ الْمَوَالِي هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَبِ فَرَسًا , وَأَجْوَدُهُ سِلَاحًا , يُؤَيِّدُ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی ، تو اللہ تعالیٰ موالی ( جن کو عربوں نے آزاد کیا ہے ) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا ، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عثمان بن أبي العاتكة: ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 210), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 523
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13478 ، ومصباح الزجاجة : 1448 ) ( حسن ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اہم حادثات اور فتنوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی، تو اللہ تعالیٰ موالی (جن کو عربوں نے آزاد کیا ہے) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4090]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  جولوگ نسل در نسل مسلمان ہوتے ہیں ان کی آئندہ نسلوں میں اسلام سے محبت اور اس پر عمل کی کوشش کم ہوجاتی ہےاس کے برعکس جو غیر مسلم اسلام قبول کرتے ہیںوہ اسلام کو اچھا سمجھ کراس پر دل سے یقین رکھتے ہیں اس لیے وہ اسلام کے لیے قربانی کا جذبہ بھی زیادہ رکھتے ہیں۔

(2)
جس طرح مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے کی تبلیغ کی جاتی ہےغیر مسلموں کو بھی اسلام میں داخل ہونے کی تبلیغ کرنا ضروری ہے اور زیادہ مفید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4090 سے ماخوذ ہے۔