سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ باب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔
حدیث نمبر: 4085
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , حَدَّثَنَا يَاسِينُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ , يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4085]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4085]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ایک رات میں درست فرمانے کا مطلب یہ ہےکہ اسے اچانک توبہ کی توفیق ملے گی اور وہ نیک ہوجائے گا یا یہ مطلب ہوگا کہ اس میں اچانک قائدانہ صلاحیتیں بیدار ہوجائیں گی اور وہ حکمرانی کے لائق ہوجائے گا۔
فوائد و مسائل:
ایک رات میں درست فرمانے کا مطلب یہ ہےکہ اسے اچانک توبہ کی توفیق ملے گی اور وہ نیک ہوجائے گا یا یہ مطلب ہوگا کہ اس میں اچانک قائدانہ صلاحیتیں بیدار ہوجائیں گی اور وہ حکمرانی کے لائق ہوجائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4085 سے ماخوذ ہے۔