حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ , إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ , فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ , تُؤْتَى أُكُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا , وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ , فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي , فَيَقُولُ : خُذْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں مہدی ہوں گے ، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے ، ورنہ نو برس رہیں گے ، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی ، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی ، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی ، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا ، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا : اے مہدی ! مجھے کچھ دیں ، وہ جواب دیں گے : لے لو ( اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے ) “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مہدی کے معنی لغت میں ہدایت پایا ہوا کے ہیں، اور اسی سے ہیں مہدی آخرالزمان، زرکشی کہتے ہیں کہ یہ وہ مہدی ہیں، جو عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے، اور قسطنطنیہ کو نصاریٰ سے چھین لیں گے اور عرب و عجم کے مالک ہو جائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور مسجد حرام میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کی جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2232), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الفتن 53 ( 2232 ) ، ( تحفة الأشراف : 3976 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/المھدي 1 ( 4285 ) ، مسند احمد ( 3/21 ، 26 ) ( حسن ) ( سند میں زید ا لعمی ضعیف راوی ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2232

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4083]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قراردیا ہے۔
ان محققین کی تحقیقی بحث پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت کم از کم حسن لغیرہ ضرور بن جاتی ہے جو کہ محدثین کے ہاں قابل حجت ہے۔
واللہ اعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الروض النضير: 647 وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكتور بشار عوادرقم: 4083)

(2)
مہدی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی آل میں سے ایک نیک آدمی ہوگا جس کا نام نبیﷺ کے نام پر (محمد)
اور اس کے والد کا نام نبیﷺ کے والد کے نام پر (عبداللہ)
ہوگا۔
اس کے سات سالہ دور حکومت میں مکمل امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، الفتن باب ماجاء في المهدي، حديث: 2231 وسنن أبي داؤد، كتاب المهدي، حديث: 4282)

(2)
ماضی میں بعض لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو درست نہیں تھا۔
اسی وجہ سے جدید دور کے بعض افراد نے مہدی کا انکار شروع کردیا ہے۔
یہ طرز عمل درست نہیں۔
جھوٹے کی تردید کرتے ہوئے سچے کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4083 سے ماخوذ ہے۔