سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا باب: پچھم سے سورج نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4069
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ الْآيَاتِ خُرُوجًا : طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا , وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى " , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَأَيَّتُهُمَا مَا خَرَجَتْ قَبْلَ الْأُخْرَى , فَالْأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَلَا أَظُنُّهَا إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کی پہلی نشانی سورج کا پچھم سے نکلنا ، اور چاشت کے وقت لوگوں پر «دابہ» ( چوپایہ ) کا ظاہر ہونا ہے “ ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے نکلے ، تو دوسرا اس سے قریب ہو گا ، میرا یہی خیال ہے کہ پہلے سورج پچھم سے نکلے گا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان نشانیوں میں جو قانون قدرت کے خلاف ہیں کیونکہ پہلی نشانی مہدی علیہ السلام کا ظہور ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اتر کر زمین پر آنا، پھر دجال کا نکلنا، پھر یاجوج ماجوج کا نکلنا، اور دابۃ الارض میں اختلاف ہے کہ سورج کے نکلنے سے پہلے نکلے گا یا بعد میں نکلے گا، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا یہی خیال تھا کہ وہ سورج نکلنے کے بعد نکلے گا، جب کہ اوروں نے کہا کہ اس سے پہلے نکلے گا، بہرحال آسمانی نشانیوں میں سورج کا نکلنا آخری نشانی ہے، اور ارضی نشانیوں میں دابۃ الارض کا نکلنا پہلی، اور بعض نے کہا کہ پہلی قیامت کی نشانی دجال کا نکلنا ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا، پھر یاجوج اور ماجوج کا نکلنا، پھر دابۃ الارض کا، پھر سورج کا پچھم سے نکلنا، کیونکہ سورج نکلنے پر ایمان کا دروازہ بند ہو جائے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام کے عہد میں بہت سے کافر دین اسلام کو قبول کریں گے یہاں تک کہ ساری دنیا میں ایک ہی دین ہو جائے گا۔ «والحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2942 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام عامر بن شراحیل شعبی،جس کاتعلق ہمدان کے شعب سے ہے،بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ سید ہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا،وہ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے(بلاواسطہ) سنی ہو۔وہ بولیں کہ اچھا، اگر تم یہ چاہتے ہو تو میں بیان کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہاں بیان کرو۔ سیدہ فاطمہ ؓ نے کہا کہ میں نے ابن مغیرہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7386]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
)
جساسه: جاسوسی کرنے والی، کیونکہ وہ دجال کے لیے جاسوسی کرتی ہے۔
(2)
فاصيب في اول الجهاد: وہ پہلے جہاد میں شہید ہوگیا، یہ راوی کا وہم ہے، کیونکہ وہ حضرت علی کے ساتھ یمن گیا تھا، وہ وہاں فوت ہوا اور بقول بعض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فوت ہوا، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ پہلے جہاد میں زخمی ہواہو، لیکن فوت بعد میں ہوا ہو اور آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لینا قابل قدر عمل ہے اور اس نے حضرت فاطمہ کو وقتاًفوقتاًتین طلاقیں دےدی تھیں، اس لیے عدت کے ختم ہونے کے بعد، حضرت معاویہ، ابوجہم اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم نے شادی کا پیغام بھیجا تھا اس لیے یہ کہنا کہ میں اس کی بیوہ ہوگئی درست نہیں، اس نے اسےوقتاًفوقتاًتین طلاقیں دی تھی اور یمن سے آخری طلاق بھیجی تھی اور حضرت علی دس ہجری میں یمن گئے تھے حضرت عبداللہ کے باپ کا نام عمرو ہے اور ماں کا نام ام مکتوم ہے، اس لیے ابن ام مکتوم، عبداللہ کی صفت ہے، عمرو کی صفت نہیں ہے۔
چونکہ وہ بھی ان کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ان کو چچا زاد کا نام دیا گیا۔
(3)
الصلاة جامعة: دونوں لفظ منسوب ہیں، پہلا فعل محذوف کا مفعول ہے اور دوسرا حال ہے، یادونوں مرفوع ہیں، یعنی هذاه الصلاةجامعة، یاهذه الصلاة مرفوع ہے اور جامعة حال ہے اور اس حدیث سے تثویب پر (اذان کے بعد پھر اعلان)
استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ یہ کلمات اس وقت کہے جاتے ہیں، جب لوگوں کو ایسے وقت میں مسجد میں جمع کرناہو، جو نماز کا وقت نہیں ہے اور حضرت تمیم داری 9ھ کو مسلمان ہوئے تھے، جو اہل فلسطین سے راہب اور عابد انسان تھے اور انھی کو یہ شرف حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حدیث جساسہ روایت کی ہے۔
(4)
ارفاوا: وہ لنگر انداز ہوئے، مرفا، بندرگاہ، (5)
اقرب: قارب کی جمع ہے، جو قیاسی روسے قعراب ہے، ڈونگا، چھوٹی کشتی (6)
اهلب، بہت بالوں والا، اس لیے کثیر الشعر اس کی تفسیر ہے۔
(7)
دير: راہب کی کٹیا، یہاں مراد محل ہے، (8)
الاشواق: شوقین، بہت شوق رکھنے والا۔
(9)
وثاق: قیدوبند، بندھن، (10)
اغتلم: حد سے تجاوز کرجانا، یعنی وہ طوفان خیز تھا۔
(11)
بيسان: یمامہ کا ایک علاقہ جہاں نخلستان بہت ہیں، اردن کا ایک علاقہ بھی ہے، لیکن وہاں اتنی زیادہ کھجوریں نہیں ہیں۔
(12)
زغر: یہ شام کے علاقہ کی ایک بستی ہے، جو بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت لوط علیہ السلام کی چھوٹی بیٹی کا نام ہے، وہ یہاں دفن ہے۔
(13)
ماهو: ما تاکید کے لیے زائدہ ہے کہ مشرق کی جناب ہونا یقینی ہے۔
(1)
)
جساسه: جاسوسی کرنے والی، کیونکہ وہ دجال کے لیے جاسوسی کرتی ہے۔
(2)
فاصيب في اول الجهاد: وہ پہلے جہاد میں شہید ہوگیا، یہ راوی کا وہم ہے، کیونکہ وہ حضرت علی کے ساتھ یمن گیا تھا، وہ وہاں فوت ہوا اور بقول بعض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فوت ہوا، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ پہلے جہاد میں زخمی ہواہو، لیکن فوت بعد میں ہوا ہو اور آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لینا قابل قدر عمل ہے اور اس نے حضرت فاطمہ کو وقتاًفوقتاًتین طلاقیں دےدی تھیں، اس لیے عدت کے ختم ہونے کے بعد، حضرت معاویہ، ابوجہم اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم نے شادی کا پیغام بھیجا تھا اس لیے یہ کہنا کہ میں اس کی بیوہ ہوگئی درست نہیں، اس نے اسےوقتاًفوقتاًتین طلاقیں دی تھی اور یمن سے آخری طلاق بھیجی تھی اور حضرت علی دس ہجری میں یمن گئے تھے حضرت عبداللہ کے باپ کا نام عمرو ہے اور ماں کا نام ام مکتوم ہے، اس لیے ابن ام مکتوم، عبداللہ کی صفت ہے، عمرو کی صفت نہیں ہے۔
چونکہ وہ بھی ان کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ان کو چچا زاد کا نام دیا گیا۔
(3)
الصلاة جامعة: دونوں لفظ منسوب ہیں، پہلا فعل محذوف کا مفعول ہے اور دوسرا حال ہے، یادونوں مرفوع ہیں، یعنی هذاه الصلاةجامعة، یاهذه الصلاة مرفوع ہے اور جامعة حال ہے اور اس حدیث سے تثویب پر (اذان کے بعد پھر اعلان)
استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ یہ کلمات اس وقت کہے جاتے ہیں، جب لوگوں کو ایسے وقت میں مسجد میں جمع کرناہو، جو نماز کا وقت نہیں ہے اور حضرت تمیم داری 9ھ کو مسلمان ہوئے تھے، جو اہل فلسطین سے راہب اور عابد انسان تھے اور انھی کو یہ شرف حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حدیث جساسہ روایت کی ہے۔
(4)
ارفاوا: وہ لنگر انداز ہوئے، مرفا، بندرگاہ، (5)
اقرب: قارب کی جمع ہے، جو قیاسی روسے قعراب ہے، ڈونگا، چھوٹی کشتی (6)
اهلب، بہت بالوں والا، اس لیے کثیر الشعر اس کی تفسیر ہے۔
(7)
دير: راہب کی کٹیا، یہاں مراد محل ہے، (8)
الاشواق: شوقین، بہت شوق رکھنے والا۔
(9)
وثاق: قیدوبند، بندھن، (10)
اغتلم: حد سے تجاوز کرجانا، یعنی وہ طوفان خیز تھا۔
(11)
بيسان: یمامہ کا ایک علاقہ جہاں نخلستان بہت ہیں، اردن کا ایک علاقہ بھی ہے، لیکن وہاں اتنی زیادہ کھجوریں نہیں ہیں۔
(12)
زغر: یہ شام کے علاقہ کی ایک بستی ہے، جو بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت لوط علیہ السلام کی چھوٹی بیٹی کا نام ہے، وہ یہاں دفن ہے۔
(13)
ماهو: ما تاکید کے لیے زائدہ ہے کہ مشرق کی جناب ہونا یقینی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7386 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4310 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قیامت کی نشانیوں کا بیان۔`
ابوزرعہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ مروان کے پاس مدینہ آئے تو وہاں اسے (قیامت کی) نشانیوں کے متعلق بیان کرتے سنا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور دجال کی ہو گی، تو میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، اور ان سے اسے بیان کیا، تو عبداللہ نے صرف اتنا کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ پہلی نشانی سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ہے، یا بوقت چاشت لوگوں کے درمیان دابہ (چوپایہ) کا ظہور ہے، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے واقع ہو دوسری بالکل اس سے متصل ہو گی، اور عبداللہ بن عمرو جن کے زیر مطالعہ آسمانی کتابیں رہا کرتی تھیں کہتے ہیں: میرا خیال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4310]
ابوزرعہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ مروان کے پاس مدینہ آئے تو وہاں اسے (قیامت کی) نشانیوں کے متعلق بیان کرتے سنا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور دجال کی ہو گی، تو میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، اور ان سے اسے بیان کیا، تو عبداللہ نے صرف اتنا کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ پہلی نشانی سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ہے، یا بوقت چاشت لوگوں کے درمیان دابہ (چوپایہ) کا ظہور ہے، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے واقع ہو دوسری بالکل اس سے متصل ہو گی، اور عبداللہ بن عمرو جن کے زیر مطالعہ آسمانی کتابیں رہا کرتی تھیں کہتے ہیں: میرا خیال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4310]
فوائد ومسائل:
فائدہ خروج دابہ قیامت سے پہلے کی علامات میں سے ایک اہم علامت ایک مخصوص جانور کا ظہور بھی ہے جو لوگوں سے باتیں کرے گا اس کا آنا عین حق ہے اور قرآن مجید میں ارشادِ الٰہی ہے جب ان پر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا ہم زمیں سے ان کے لیئے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا اس لیئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے، النمل 83۔
بعض روایات میں اس جانور سے مراد جسامہ لیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں تفسیر ابنِ کثیر وقرطبی وغیرہ فائدہ ایمان وہی مفید اور مقبول ہے جو بالغیب ہو، حقائق آخرت کا مشاہدہ کر لینے کے بعد ایمان کسی طور بھی مفید نہ ہوگا۔
آخرت میں بھی کفار یہی کہیں گے: (رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ) ’’اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا اور سُنا ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آ گیا۔
‘‘ لیکن دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہ ہوگا۔
فائدہ خروج دابہ قیامت سے پہلے کی علامات میں سے ایک اہم علامت ایک مخصوص جانور کا ظہور بھی ہے جو لوگوں سے باتیں کرے گا اس کا آنا عین حق ہے اور قرآن مجید میں ارشادِ الٰہی ہے جب ان پر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا ہم زمیں سے ان کے لیئے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا اس لیئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے، النمل 83۔
بعض روایات میں اس جانور سے مراد جسامہ لیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں تفسیر ابنِ کثیر وقرطبی وغیرہ فائدہ ایمان وہی مفید اور مقبول ہے جو بالغیب ہو، حقائق آخرت کا مشاہدہ کر لینے کے بعد ایمان کسی طور بھی مفید نہ ہوگا۔
آخرت میں بھی کفار یہی کہیں گے: (رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ) ’’اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا اور سُنا ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آ گیا۔
‘‘ لیکن دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہ ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4310 سے ماخوذ ہے۔