حدیث نمبر: 4065
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ , قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ , سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ : ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ , فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَعَلَّ فِيهِمُ الْمُكْرَهَ , قَالَ : " إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا ذکر فرمایا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ” اللہ کے رسول ! شاید ان میں کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی لایا گیا ہو “ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4065
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الفتن 10 ( 2171 ) ، ( تحفة الأشراف : 18216 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/289 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2882 | سنن ترمذي: 2171 | سنن ابي داود: 4286 | سنن ابي داود: 4289

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بیداء کے لشکر کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا ذکر فرمایا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! شاید ان میں کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی لایا گیا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4065]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بڑے جرم کے ارتکاب پر اللہ کا عذاب بعض اوقات مجرموں کو دنیا ہی میں پکڑ لیتا ہے۔

(2)
مجرموں کے ساتھ چلنے والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔

(3)
قیامت کو سزا صرف مجرموں کو ملے گی، خواہ وہ جرم کا ارتکاب کرنےوالے افراد ہوں یا ان سے کسی نہ کسی انداز سے تعاون کرنے والے یا ان کے جرم کو معمولی سمجھ کر روکنے کی کوشش نہ کرنے والے یا ان کے جرم سے نفرت نہ رکھنے والے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4065 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2171 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا ذکر کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، تو ام سلمہ نے عرض کیا: ہو سکتا ہے اس میں کچھ مجبور لوگ بھی ہوں، آپ نے فرمایا: وہ اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2171]
اردو حاشہ:
وضاحت:
 
1؎:
یعنی دنیاوی عذاب میں تومجبور اوربے بس لوگ بھی مبتلا ہوجائیں گے مگر آخرت میں وہ اپنے اعمال کے موافق اٹھائے جائیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2171 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4289 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´باب:۔۔۔۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہو گا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المهدى /حدیث: 4289]
فوائد ومسائل:
1) اللہ تعالی کا عذاب جب عمومی انداز میں آتا ہے تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، البتہ انبیاء اور رسل ؑ اور ان کے متبعین کا معاملہ بطور معجزہ اس عموم سے مستثنیٰ ہے۔

2) اضطراروا کراہ یعنی انسان کو کسی ناپسندیدہ عمل پر انتہائی مجبور کردیا جانا۔
۔
۔
۔
شریعت میں ایک معتبر عذر ہے، جس کا فائدہ اگر دنیا میں حاصل نہ ہو سکے تو ان شاءاللہ قیامت کو ضرور ملے گا۔

3) اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4289 سے ماخوذ ہے۔