سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : جَيْشِ الْبَيْدَاءِ باب: بیداء کے لشکر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ , عَنْ صَفِيَّةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ , حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ , وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ " , قُلْتُ : فَإِنْ كَانَ فِيهِمْ مَنْ يُكْرَهُ , قَالَ : " يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ " .
´ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ اللہ کے اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہ آئیں گے حتیٰ کہ ایک لشکر لڑنے کے لیے آئے گا ، جب وہ لوگ مقام بیداء یا بیداء کی سر زمین میں پہنچیں گے ، تو اول سے لے کر اخیر تک تمام زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے ، اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچیں گے “ ۔ میں نے عرض کیا : اگر ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں اپنی اپنی نیت کے موافق اٹھائے گا “ ۔