حدیث نمبر: 4059
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ , حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانُ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنْ طَارِقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ , مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت سے پہلے مسخ ، ( صورتوں کی تبدیلی ہونا ) زمین کا دھنسنا ، اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4059
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9323 ، ومصباح الزجاجة : 1435 ) ( صحیح ) » ( سند میں سیار ابو الحکم اور طارق بن شہاب کے مابین انقطاع ہے لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1787 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´زمین کے دھنسنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مسخ، (صورتوں کی تبدیلی ہونا) زمین کا دھنسنا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4059]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سابقہ امتوں میں صورتیں مسخ ہونے کے واقعات ہوئے ہیں، جیسے ہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے والوں بندر بنایا گیا: دیکھیے (سورۂ اعراف، آیت: 163 تا 166)
قیامت کے قریب اس امت میں بھی ایسے واقعات پیش آئیں گے۔

(2)
حضرت لوط علیہ السلام کی بدکار قوم پر پتھر برسائے گے، دیکھیے:  (سورہ ہود، آیت: 82)
اورقارون کو زمین میں دھنسادیا گیا، دیکھیے: (سورہ قصص: 18)
 قیامت کے قریب بھی مجرموں کو اس طرح کی سزائیں ملیں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4059 سے ماخوذ ہے۔