سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : ذَهَابِ الأَمَانَةِ باب: امانت کے ختم ہو جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ , عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا , نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ , فَإِذَا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ , لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا , فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا , نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ , فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ , لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا , فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا , نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ , فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ , لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا , فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا , نُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الْإِسْلَامِ " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے ، پھر جب حیاء اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہو جاتا ہے ، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے ، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے ، اور جب چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے ، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پاؤ گے ، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے “ ۔