حدیث نمبر: 4043
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرٌو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ , حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ , وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ , وَيَرِثُ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے ، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے ، اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4043
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الفتن 9 ( 2170 ) ، ( تحفة الأشراف : 3365 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/389 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری اور عبدالعزیز دراوردی میں کلام ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2170

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2170 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´معروف (بھلائی) کا حکم دینے اور منکر (برائی) سے روکنے کا بیان۔`
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم اپنے امام کو قتل نہ کر دو، اپنی تلواروں سے ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور برے لوگ تمہاری دنیا کے وارث نہ بن جائیں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2170]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن عبدالرحمن اشہلی ضعیف راوی ہیں )
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2170 سے ماخوذ ہے۔