سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4034
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا , وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ , وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا , فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ , وَلَا تَشْرَبْ الْخَمْرَ , فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ ، اور جلا دئیے جاؤ ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا ، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی ، اور تم شراب مت پینا ، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4034]
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4034]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شرک سب سے بڑا جرم ہے۔
لہٰذا سخت سے سخت حالات میں بھی اس سے بچنا ضروری ہے۔
(2)
عقیدہ توحید کے لیے جان بھی قربان کرنی پڑے تو سعادت ہے۔
(3)
شرک کے بعد بڑا گناہ نماز چھوڑنا ہے جو کفر کے مترادف ہے۔
(4)
عقل اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
نشہ آور اشیاء کے استعمال سے اس نعمت کو ضائع کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔
(5)
نشے کی وجہ سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
اس لیے مسلمان کے لیے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز انتہائی ضروری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
شرک سب سے بڑا جرم ہے۔
لہٰذا سخت سے سخت حالات میں بھی اس سے بچنا ضروری ہے۔
(2)
عقیدہ توحید کے لیے جان بھی قربان کرنی پڑے تو سعادت ہے۔
(3)
شرک کے بعد بڑا گناہ نماز چھوڑنا ہے جو کفر کے مترادف ہے۔
(4)
عقل اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
نشہ آور اشیاء کے استعمال سے اس نعمت کو ضائع کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔
(5)
نشے کی وجہ سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
اس لیے مسلمان کے لیے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز انتہائی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4034 سے ماخوذ ہے۔