سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّيَمُّنِ فِي الْوُضُوءِ باب: دائیں طرف سے وضو شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِمَيَامِنِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم وضو کرو تو داہنے اعضاء سے شروع کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ وضو میں پہلے داہنا ہاتھ دھوئے، اور جوتا پہلے داہنے پاؤں میں پہنے، اسی طرح کنگھی پہلے سر کے داہنی طرف کرے پھر بائیں طرف، یہی مسنون ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی یہی عادت مبارکہ تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4141 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جوتا پہننے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4141]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4141]
فوائد ومسائل:
ہر اچھے کام میں دائیں جانب کا خیال رکھنا ایک اسلامی ادب اور شعار ہے۔
ہر اچھے کام میں دائیں جانب کا خیال رکھنا ایک اسلامی ادب اور شعار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4141 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 42 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´ہر اچھے کام کی ابتدا دائیں طرف سے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:إذا توضاتم فابداوا بميامنكم . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم وضو کرنے لگو تو اپنے دائیں جانب سے ابتداء کیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/: 42]
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:إذا توضاتم فابداوا بميامنكم . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم وضو کرنے لگو تو اپنے دائیں جانب سے ابتداء کیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/: 42]
� فائدہ:
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے جیسا کہ دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اچھے کام کی ابتدا میں دایاں پہلو ہی پسند اور محبوب تھا۔ خود بھی اسی پر عمل پیرا رہے اور امت کو بھی حکم فرمایا کہ دائیں جانب سے ابتداء کرو۔
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے جیسا کہ دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اچھے کام کی ابتدا میں دایاں پہلو ہی پسند اور محبوب تھا۔ خود بھی اسی پر عمل پیرا رہے اور امت کو بھی حکم فرمایا کہ دائیں جانب سے ابتداء کرو۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 42 سے ماخوذ ہے۔