سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : قَوْلِهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔
حدیث نمبر: 4016
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جُنْدُبٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ " , قَالُوا : وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کرے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا ، جس کی اس میں طاقت نہ ہو گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے “، لوگوں نے عرض کیا: اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا، جس کی اس میں طاقت نہ ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4016]
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے “، لوگوں نے عرض کیا: اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا، جس کی اس میں طاقت نہ ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4016]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہےجبکہ دیگر محققین سے اسے شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی نے مذکورہ حدیث پر تفصیلاً بحث کرتے ہوئے اسے حسن قراردیا ہے اور انھی کی رائےاقرب الی الصلوب معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للألباني، رقم: 613)
بنا بریں ایسی ذمہ داری اٹھانے والے کو قصور وار سمجھتے ہیں اس طرح اس کی عزت خوامخواہ کم ہوجاتی ہے۔
(2)
بعض علماء مسجد ومدرسہ یا انجمن کے انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں حالانکہ ان میں علمی صلاحیت تو ہوتی ہے، انتظامی صلاحیت نہیں ہوتی۔
بعض اوقات خود مسجد یا مدرسہ کے متعلقین یہ تصور کرلیتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے عالم ہیں۔
لہٰذا انتظام اچھے طریقے سے چلائیں گے۔
اس صورت میں ایسی ذمہ داری نہیں اٹھانی چاہیے جس کے بارے میں یقین ہوکہ اسے نبھانا مشکل ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہےجبکہ دیگر محققین سے اسے شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی نے مذکورہ حدیث پر تفصیلاً بحث کرتے ہوئے اسے حسن قراردیا ہے اور انھی کی رائےاقرب الی الصلوب معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للألباني، رقم: 613)
بنا بریں ایسی ذمہ داری اٹھانے والے کو قصور وار سمجھتے ہیں اس طرح اس کی عزت خوامخواہ کم ہوجاتی ہے۔
(2)
بعض علماء مسجد ومدرسہ یا انجمن کے انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں حالانکہ ان میں علمی صلاحیت تو ہوتی ہے، انتظامی صلاحیت نہیں ہوتی۔
بعض اوقات خود مسجد یا مدرسہ کے متعلقین یہ تصور کرلیتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے عالم ہیں۔
لہٰذا انتظام اچھے طریقے سے چلائیں گے۔
اس صورت میں ایسی ذمہ داری نہیں اٹھانی چاہیے جس کے بارے میں یقین ہوکہ اسے نبھانا مشکل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4016 سے ماخوذ ہے۔