سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : قَوْلِهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ الرُّعَيْنِيُّ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى نَتْرُكُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ قَالَ : " إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ " , قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَنَا , قَالَ : " الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ , وَالْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ , وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ " , قَالَ زَيْدٌ : تَفْسِيرُ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ " : إِذَا كَانَ الْعِلْمُ فِي الْفُسَّاقِ .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہو جائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی ، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آ جائے گی ، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے “ ۔ زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول : «والعلم في رذالتكم» کا مطلب یہ ہے کہ علم ( دین ) فاسقوں میں چلا جائے گا ۔