سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ , فَلَمَّا رَأَى الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ سَأَلَهُ فَسَكَتَ عَنْهُ , فَلَمَّا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ لِيَرْكَبَ , قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " , قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ " .
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جمرہ اولیٰ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا جہاد سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے جمرہ کی رمی کی تو اس نے پھر آپ سے یہی سوال کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، پھر جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی ، تو سوار ہونے کے لیے آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور فرمایا : ” سوال کرنے والا کہاں ہے “ ؟ ، اس نے عرض کیا : میں حاضر ہوں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( سب سے بہتر جہاد ) ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے “ ۔