سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا وَقَعَ فِيهِمُ النَّقْصُ , كَانَ الرَّجُلُ يَرَى أَخَاهُ عَلَى الذَّنْبِ فَيَنْهَاهُ عَنْهُ , فَإِذَا كَانَ الْغَدُ لَمْ يَمْنَعْهُ مَا رَأَى مِنْهُ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَخَلِيطَهُ , فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ , فَقَالَ : لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَتَّى بَلَغَ وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ سورة المائدة آية 78 ـ 81 " , قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ , وَقَالَ : " لَا , حَتَّى تَأْخُذُوا عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ , فَتَأْطِرُوهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا " .
´ابوعبیدہ ( عامر ) کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسرائیل میں جب خرابیاں پیدا ہوئیں ، تو ان کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ کرتے دیکھتا تو اسے روکتا ، لیکن دوسرے دن پھر اس کے ساتھ کھاتا پیتا اور مل جل کر رہتا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مردہ کر دیا ، اور آپس کی محبت ختم کر دی ، اور ان ہی لوگوں کے بارے میں قرآن اترا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون» ( سورۃ المائدہ : ۷۸ -۸۱ ) تک پہنچے ۔ ( جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم ( علیہم السلام ) کی زبانی لعنت کی گئی ، کیونکہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے ، وہ جس برائی کے خود مرتکب ہوتے اس سے لوگوں کو بھی نہیں روکتے تھے ، بہت ہی برا کرتے تھے ، تو ان میں سے اکثر کو دیکھ رہا ہے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں یہ وطیرہ انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا اختیار کیا ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان پر سخت ناراض ہے ، اور آخرت میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں رہیں گے ، اور اگر یہ اللہ پر اور نبی پر اور جو اس کی طرف اترا ہے اس پر ایمان لاتے تو ان کافروں کو دوست نہ بناتے ، لیکن بہت سے ان میں فاسق ( بدکار اور بے راہ ) ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے ، پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا : ” تم اس وقت تک عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک کہ تم ظالم کو ظلم کرتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انصاف کرنے پر مجبور نہ کر دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ (علماء) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر کھائے پئے تو اللہ نے بعض کے دل بعض سے ملا دیئے ۱؎ اور ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3047]
وضاحت:
1؎:
یعنی ان میں کوئی اچھا اور کوئی برا نہ رہا، سب ایک جیسے مستحق عذاب ہو گئے۔
نوٹ:
(سند میں ابوعبیدہ کا اپنے باپ عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے)
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون» سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3048]
وضاحت:
1؎:
’’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفرکیا تھا، ان پرداؤد اورمسیح ابن مریم علیھم السلام کی زبانی لعنت بھیجی گئی تھی۔
کیوں کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے آگے بڑھ جاتے۔
جو بھی منکر، قوم کرتی، اوراس سے وہ لوگوں کو روکتے نہ تھے۔
وہ بہت ہی برا کرتے تھے۔
تم اُن میں سے بہتوں کو دیکھ رہے ہو کافروں سے دوستی کرتے ہیں، انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا وطیرہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ ان سے سخت ناراض ہے، وہ آخرت میں ہمیشہ ہمیش عذاب میں رہنے والے ہیں۔
اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور اس نبیﷺ پر اور جو چیز اس نبیﷺ پر اتری ہے اس پر ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق وبدکار ہیں‘‘ (المائدہ: 78)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں (غلط کاریاں) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا “ پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4336]
یہ روایت تو سندَا ضعیف ہے، مگر حقیت یہی ہے کہ اگر فا سقوں، ظالموں اور اہلِ بدعت کے ساتھ للہ فی اللہ بغض نہ رکھا جائےاور مقاطعہ نہ ہو بلکہ ان کے ساتھ آزادانہ اختلاط ہو یوں کہ شرعی غیرت بھی اُٹھ جائے تو اس کا عقاب میرا خیال ہے کہ یہاں پر عذاب ہو نا چاہیئے تھا، انتہائی شدید ہوتا ہے، جیسے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ اور امتِ اسلامیہ کہ موجودہ صورتحال سے طاہر ہے۔
ولا حول ولا قوة إلا باللہ۔