سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4004
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ a> , عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ , وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ , قَبْلَ أَنْ تَدْعُوا فَلَا يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” تم بھلی بات کا حکم دو ، اور بری بات سے منع کرو ، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4004]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4004]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کا حکم دینے سے مراد مناسب طریقے سے نیکی کی ترغیب دینا ہے۔
حاکم اپنی رعایا کو، والد اپنی اولاد کو اور خاوند اپنی بیوی کو حکم دے سکتا ہے جس کی وہ تعمیل کرتے ہیں۔
دوسروں کو اس انداز سے حکم نہیں دیا جاسکتا۔
(2)
برائی سے منع کرنے کی طاقت ہو تو ہاتھ سے منع کرنا (جیسے حاکم، والدین اور خاوند وغیرہ)
ورنہ زبان سے سمجھنا ضروری ہے (جیسے عالم عوام کو سمجھاتا ہے)
اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو گناہ سے دلی نفرت ضروری ہے۔
(3)
گناہوں کا ارتکاب دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے لہٰذا توبہ کرنی چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کا حکم دینے سے مراد مناسب طریقے سے نیکی کی ترغیب دینا ہے۔
حاکم اپنی رعایا کو، والد اپنی اولاد کو اور خاوند اپنی بیوی کو حکم دے سکتا ہے جس کی وہ تعمیل کرتے ہیں۔
دوسروں کو اس انداز سے حکم نہیں دیا جاسکتا۔
(2)
برائی سے منع کرنے کی طاقت ہو تو ہاتھ سے منع کرنا (جیسے حاکم، والدین اور خاوند وغیرہ)
ورنہ زبان سے سمجھنا ضروری ہے (جیسے عالم عوام کو سمجھاتا ہے)
اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو گناہ سے دلی نفرت ضروری ہے۔
(3)
گناہوں کا ارتکاب دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے لہٰذا توبہ کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4004 سے ماخوذ ہے۔