سنن ابن ماجه
كتاب السنة— کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
بَابُ : اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: اتباع سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ يَعْدُهُ وَلَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو جعفر کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے ، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ حدیث کی روایت میں حد درجہ محتاط تھے، الفاظ کی پوری پابندی کرتے تھے، اور ہوبہو اسی طرح روایت کرتے جس طرح سنتے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 4
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اتباع سنت کا بیان۔`
ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 4]
ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 4]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا حدیث پر عمل اور بدعت سے اجتناب کا جذبہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ارشادات نبویہ پر حرف بحرف عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
اس میں کوتاہی کرتے نہ اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے قدم رکھنے کی کوشش کرتے تھے کیونکہ قرآن مجید نے اس کام سے منع فرمایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ﴾ (الحجرات: 1)
’’اے ایمان والو! اللہ سے اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔‘‘
(2) اس حدیث کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ارشاد مبارک سنتے تھے، اسے بعینہ اسی طرح روایت فرماتے، الفاظ میں کمی بیشی نہ کرتے۔ حدیث کو بالمعنی روایت کرنا اگرچہ جائز ہے، تاہم محدثین روایت باللفظ کو افضل قرار دیتے تھے۔
اس میں کوتاہی کرتے نہ اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے قدم رکھنے کی کوشش کرتے تھے کیونکہ قرآن مجید نے اس کام سے منع فرمایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ﴾ (الحجرات: 1)
’’اے ایمان والو! اللہ سے اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔‘‘
(2) اس حدیث کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ارشاد مبارک سنتے تھے، اسے بعینہ اسی طرح روایت فرماتے، الفاظ میں کمی بیشی نہ کرتے۔ حدیث کو بالمعنی روایت کرنا اگرچہ جائز ہے، تاہم محدثین روایت باللفظ کو افضل قرار دیتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4 سے ماخوذ ہے۔