حدیث نمبر: 3983
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ابوعزہ حجمی نامی شاعرمسلمانوں کی ہجو کرتا تھا، بدر کے موقع پر قیدی ہواا ور آئندہ ہجو نہ کرنے کا عہدکر کے اس نے آزادی حاصل کر لی، مکہ مکرمہ جا کر اس نے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف شاعری شروع کر دی پھر وہ غزوہ احد میں دوبارہ قید ہوا، اور اپنی تنگدستی کا بہانہ بنا کر دوبارہ آزادی طلب کی تو اس موقع پر آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 3983
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6811 ، ومصباح الزجاجة : 1396 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/115 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´(فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3983]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مومن سے بعض اوقات غلطی ہوسکتی ہے لیکن غلطی واضح ہونے پر اس سے رجوع کرلینا چاہیے۔

(2)
جو شخص ایک بار ناقابل اعتماد ثابت ہوجائے دوبارہ اس پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3983 سے ماخوذ ہے۔