حدیث نمبر: 3975
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ , قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى أُمَرَائِنَا , فَنَقُولُ الْقَوْلَ , فَإِذَا خَرَجْنَا قُلْنَا غَيْرَهُ , قَالَ : " كُنَّا نَعُدُّ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء ( حکمرانوں ) کے پاس جاتے ہیں ، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 3975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7090 ، ومصباح الزجاجة : 1400 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/ الأحکام 27 ( 7178 ) ، مسند احمد ( 2/15 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان۔`
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء (حکمرانوں) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3975]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان کا ظاہر اور باطن ایک ہونا چاہیے۔

(2)
حکمرانوں کے سامنے صحیح صورت حال پیش کرنا اور صحیح رائے دینا ضروری ہے ان کی خوشنودی کے لیے غلط کام کو غلط جانتے ہوئے بھی اس کی تعریف کرنا بہت بڑی اخلاقی کمزوری ہے جس سے حکمران کو بھی نقصان ہوتا ہےاور مسلم عوام کو بھی۔

(3)
منافقانہ طرز عمل جھوٹ دھوکے اور خوشامد پر مبنی ہوتا ہےاور یہ سب بری عادتیں ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3975 سے ماخوذ ہے۔