سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ باب: بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 397
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِى سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو وضو سے پہلے «بسم اللہ» نہ کہے اس کا وضو نہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان۔`
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو وضو سے پہلے «بسم اللہ» نہ کہے اس کا وضو نہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 397]
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو وضو سے پہلے «بسم اللہ» نہ کہے اس کا وضو نہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 397]
اردو حاشہ: 1۔
اس حدیث کی روشنی میں بعض علماء نے وضو کے شروع میں ’’بسم الله‘‘ پڑھنے کو واجب قرار دیا ہے اور بعض علماء نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
ان کے نزدیک ’’وضو نہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ’’کما حقہ مکمل وضو نہیں‘‘ لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے
(2)
اگر’’بسم الله‘‘ۃبھول گئی اور وضو کے دوران میں یاد آئی تو فوراً پڑھ لے، تاہم وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھول چوک معاف ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں بعض علماء نے وضو کے شروع میں ’’بسم الله‘‘ پڑھنے کو واجب قرار دیا ہے اور بعض علماء نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
ان کے نزدیک ’’وضو نہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ’’کما حقہ مکمل وضو نہیں‘‘ لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے
(2)
اگر’’بسم الله‘‘ۃبھول گئی اور وضو کے دوران میں یاد آئی تو فوراً پڑھ لے، تاہم وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھول چوک معاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 397 سے ماخوذ ہے۔