حدیث نمبر: 3961
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ , عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ , يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا , وَيُمْسِي كَافِرًا , وَيُمْسِي مُؤْمِنًا , وَيُصْبِحُ كَافِرًا , الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ , وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي , وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي , فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ , وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ , وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمُ الْحِجَارَةَ , فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے قریب ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے حصے ، ان میں آدمی صبح کو مومن ہو گا ، تو شام کو کافر ہو گا اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو گا ، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے ، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے ، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ، اور ان فتنوں میں تم اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا ، کمان کے تانت کاٹ ڈالنا ، اپنی تلواریں پتھر پر مار کر کند کر لینا ، اور اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی گھس جائے تو آدم کے دونوں بیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح ہو جا نا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جنہوں نے اپنے بھائی قابیل سے کہا: تو مجھے اگر مارے گا تب بھی تجھے نہیں ماروں گا، مطلب آپ کا یہ ہے کہ ان فتنوں میں لڑنا اور مسلمانوں کو مارنا گویا فتنہ کی تائید کرنا ہے، پس گھر میں خاموشی سے بیٹھے رہنا مناسب ہے، اور جس قدر کوئی زیادہ حرکت کرے گا اتنا ہی وہ برا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 3961
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الفتن 2 ( 4259 ) ، سنن الترمذی/الفتن 33 ( 2204 ) ، ( تحفة الأشراف : 9032 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/408 ، 416 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4259 | سنن ابي داود: 4262

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے حصے، ان میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، تو شام کو کافر ہو گا اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو گا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اور ان فتنوں میں تم اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا، کمان کے تانت کاٹ ڈالنا، اپنی تلواریں پتھر پر مار کر کند کر لینا، اور اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی گھس جائے تو آدم کے دونوں بیٹوں میں سے نیک بیٹے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3961]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
فتنے کے زمانے میں اپنے ایمان کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

(2)
فتنوں میں کم حصہ لینا بہتر ہے اور بالکل کنارہ کش رہنا سب سے بہتر۔

(3)
صرف اس لیے کسی سے دشمنی رکھنا اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا غلط ہے کہ اس کا تعلق فلاں فرقے تنظیم جماعت یا پارٹی سے ہے، یہ جاہلیت کی سی عصبیت ہے۔
اس سے زیادہ سے زیادہ اجتناب کرنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3961 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4259 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔`
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہیں جیسے تاریک رات کی گھڑیاں (کہ ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے) ان فتنوں میں صبح کو آدمی مومن رہے گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن رہے گا، اور صبح کو کافر ہو جائے گا، اس میں بیٹھا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تو تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کے تانت کاٹ ڈالنا، اور اپنی تلواروں کی دھار کو پتھروں سے مار کر ختم کر دینا ۱؎، پھر اگر اس پر بھی کوئی تم میں سے کسی پر چڑھ آئے،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4259]
فوائد ومسائل:
حضرت آدم ؑ کا بہتر بیٹا وہی تھا جس نے قتل ہونا قبول کر لیا تھا (یعنی ہابیل) اور قاتل بننے سے گریز کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4259 سے ماخوذ ہے۔