سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : التَّثَبُّتِ فِي الْفِتْنَةِ باب: فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ حُرْدَانَ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي عُدَيْسَةُ بِنْتُ أُهْبَانَ , قَالَتْ : لَمَّا جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ هَاهُنَا الْبَصْرَةَ دَخَلَ عَلَى أَبِي , فَقَالَ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ , أَلَا تُعِينُنِي عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ , قَالَ : بَلَى , قَالَ : فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ , فَقَالَ : يَا جَارِيَةُ , أَخْرِجِي سَيْفِي , قَالَ : فَأَخْرَجَتْهُ فَسَلَّ مِنْهُ قَدْرَ شِبْرٍ , فَإِذَا هُوَ خَشَبٌ , فَقَالَ : إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ " إِذَا كَانَتِ الْفِتْنَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَتَّخِذُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ " , فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ مَعَكَ , قَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِيكَ , وَلَا فِي سَيْفِكَ .
´عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ` جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہاں بصرہ میں آئے ، تو میرے والد ( اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ ) کے پاس تشریف لائے ، اور کہا : ابو مسلم ! ان لوگوں ( شامیوں ) کے مقابلہ میں تم میری مدد نہیں کرو گے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور مدد کروں گا ، پھر اس کے بعد اپنی باندی کو بلایا ، اور اسے تلوار لانے کو کہا : وہ تلوار لے کر آئی ، ابو مسلم نے اس کو ایک بالشت برابر ( نیام سے ) نکالا ، دیکھا تو وہ تلوار لکڑی کی تھی ، پھر ابو مسلم نے کہا : میرے خلیل اور تمہارے چچا زاد بھائی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے کہ ” جب مسلمانوں میں جنگ اور فتنہ برپا ہو جائے تو میں ایک لکڑی کی تلوار بنا لوں “ ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ہمراہ نکلوں ، انہوں نے کہا : مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے اور نہ تمہاری تلوار کی ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہاں بصرہ میں آئے، تو میرے والد (اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ) کے پاس تشریف لائے، اور کہا: ابو مسلم! ان لوگوں (شامیوں) کے مقابلہ میں تم میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور مدد کروں گا، پھر اس کے بعد اپنی باندی کو بلایا، اور اسے تلوار لانے کو کہا: وہ تلوار لے کر آئی، ابو مسلم نے اس کو ایک بالشت برابر (نیام سے) نکالا، دیکھا تو وہ تلوار لکڑی کی تھی، پھر ابو مسلم نے کہا: میرے خلیل اور تمہارے چچا زاد بھائی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3960]
فوائد و مسائل:
(1)
لکڑی کی تلوار جنگ میں کام نہیں آسکتی۔
لکڑی کی تلوار بنوانے کا مقصد جنگ وجدل سے الگ رہنا ہے۔
(2)
مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے موقع پر کسی ایک فریق کا ساھ دینے کی بجائے دونوں میں صلح کرانے کی کوشش کرنا زیادہ ضروری ہے۔
عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی رضی الله عنہ آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا: میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے وصیت کی کہ ” جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں “، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں: چنانچہ علی رضی الله عنہ نے میرے والد کو چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2203]
وضاحت:
1؎:
لکڑی کی تلوار بنانے کا مطلب فتنہ کے وقت قتل وخوں ریزی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے۔