حدیث نمبر: 3954
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا , إِلَّا مَنْ أَحْيَاهُ اللَّهُ بِالْعِلْمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب کئی فتنے ظاہر ہوں گے ، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا ، اور شام کو کافر ہو جائے گا مگر جسے اللہ تعالیٰ علم کے ذریعہ زندہ رکھے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 3954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا وهو صحيح دون جملة العلم , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, علي بن يزيد: ضعيف, وأصل الحديث صحيح بالشواهد دون قوله: ’’ إلا من أحياه اﷲ بالعلم‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4916 ، ومصباح الزجاجة : 1389 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/المقدمة 32 ( 350 ) ( ضعیف جداً ) » ( سند میں علی بن یزید منکر الحدیث اور متروک ہے ، علم کے جملہ کے بغیر اصل متن صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 3696 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن دارمي: 349

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´(امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی فتنے ظاہر ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا مگر جسے اللہ تعالیٰ علم کے ذریعہ زندہ رکھے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3954]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ روایت آخری جملے (إِلَّا مَنْ أَحْياَءَ اللهُ بِالعِلم)
مگر جسےا للہ علم کے ذریعے زندہ رکھے کے سوا باقی صحیح ہے نیز اس حدیث کی بابت دیگر محققین کی یہی رائے معلوم ہوتی ہے۔ دیکھیے: (ضعيف سنن ابن ماجة للألباني، رقم: 790 طبع مكتبة المعارف، الرياض)
بنابریں مذکورہ روایت آخری جملے کے سوا صحیح ہے۔
واللہ اعلم۔

(2)
مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دینا نبی ﷺ کا معجزہ اور آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔

(3)
فتنوں کے بارے میں خبردار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان حالات میں اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کا زیادہ خیال رکھیں۔

(4)
بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان انھیں معمولی سمجھتا ہے حالانکہ وہ اسلام سے خارج کردینے والے ہوتے ہیں اس لیے کسی بھی گناہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3954 سے ماخوذ ہے۔