سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْعَصَبِيَّةِ باب: عصبیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3948
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ , يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ , أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ , فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے لڑے ، عصبیت کی دعوت دے ، اور عصبیت کے سبب غضب ناک ہو ، اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جاہلیت کے زمانے میں ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ سے نفسانیت اور تعصب کے جذبے سے لڑتا اور فخر و غرور اورتکبر اس کو قتل و قتال پر آمادہ کرتے، اور اپنے قبیلہ کی ناموری اور عزت کے لئے جان دیتا اور جان لیتا، پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کے زمانہ میں جو شرعی سبب کے بغیر لڑائی کرے اس کا حکم بھی جاہلیت کا سا ہے، یعنی اس لڑائی میں کچھ ثواب نہیں بلکہ عذاب ہو گا، اور گمراہی کے جھنڈے کا یہی مطلب ہے کہ نہ شرع کے مطابق امام ہو، نہ شرع کے اصول و ضوابط کے لحاظ سے جہاد ہو، بلکہ یوں اپنی قوم کا فخر قائم رکھنے کے لئے کوئی لڑے اور مارا جائے تو ایسے لڑنے والے کو کچھ ثواب نہیں، سبحان اللہ، دین اسلام سے بڑھ کر اور کوئی دین کیسے اچھا ہو سکتا ہے، ہر آدمی کو اپنی قوم عزیز ہوتی ہے، لیکن اسلام میں یہ حکم ہے کہ اپنے قوم کی مدد بھی وہیں تک کر سکتا ہے، جب تک کہ وہ ظالم نہ ہو، اور انصاف اور شرع کے مطابق کاروائی کرے، لیکن جب قوم ظالم ہو اور انسانوں پر ظلم و زیادتی کرے، تو ایسی قوم سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کر لے، ایمان کا یہی تقاضا ہے، اور جو لوگ عادل و منصف اور متبع شرع ہوں ان کا ساتھ دے، اور انہی کو اپنی قوم اور جماعت سمجھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عصبیت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی دعوت دے، اور عصبیت کے سبب غضب ناک ہو، اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3948]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی دعوت دے، اور عصبیت کے سبب غضب ناک ہو، اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3948]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
گمراہی کے جھنڈے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تحقیق کیے بغیر ایک فریق کا ساتھ دیتا ہے کہ وہ حق پر ہے یا نہیں۔
اس صورت میں اگر وہ گروہ حق پر بھی ہوا تو اس شخص کی نیت حق کا ساتھ دینے کی نہیں بلکہ اپنے خاندان قبیلےقوم جماعت پارٹی یا تنطیم کا ساتھ دینے کی ہےاس لیے یہ وہ جنگ نہیں جس میں حصہ لینے سے ثواب ہو اور قتل ہونے سے شہادت کا درجہ ملے۔
(2)
حق وباطل کی پہچان کیے بغیر ہر دعوت اور ہر جنگ و جدل جاہلیت کے طریقے پر ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
گمراہی کے جھنڈے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تحقیق کیے بغیر ایک فریق کا ساتھ دیتا ہے کہ وہ حق پر ہے یا نہیں۔
اس صورت میں اگر وہ گروہ حق پر بھی ہوا تو اس شخص کی نیت حق کا ساتھ دینے کی نہیں بلکہ اپنے خاندان قبیلےقوم جماعت پارٹی یا تنطیم کا ساتھ دینے کی ہےاس لیے یہ وہ جنگ نہیں جس میں حصہ لینے سے ثواب ہو اور قتل ہونے سے شہادت کا درجہ ملے۔
(2)
حق وباطل کی پہچان کیے بغیر ہر دعوت اور ہر جنگ و جدل جاہلیت کے طریقے پر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3948 سے ماخوذ ہے۔