حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ , وَيُونُسُ بْنُ يَحْيَ , جَمِيعًا , عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مسلمان کا خون ، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 3933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البر والصلة 10 ( 2564 ) ، ( تحفة الأشراف : 14941 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/277 ، 311 ، 360 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4882

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مومن کی جان و مال کی حرمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
کسی کو ذلیل کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس پر کسی قسم کا جھوٹا الزام لگانا اور اس کی غلطیوں کی تشہیر کرنا سب کبیرہ گناہ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3933 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4882 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غیبت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4882]
فوائد ومسائل:
جہاں مسلمان بھائی کی دوسروں کے ہاں بدگوئی کرنا یا توہین کرنا یا اس کا مال مار لینا حرام ہے، وہاں اپنے جی میں اسے حقیر جاننا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4882 سے ماخوذ ہے۔