سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْكَفِّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ باب: کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا۔
حدیث نمبر: 3928
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ , حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ , إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار نہ کر لیں ، جب انہوں نے اس کا اقرار کر لیا ، تو اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا ، مگر ان کے حق کے بدلے ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 21 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حکم ملا ہے، کہ لوگوں سے جنگ لڑوں یہاں تک کہ وہ "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہیں، جب "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ لیں گے، تو اس کے بعد میری طرف سے ان کے خون اور مال محفوظ ہیں اِلّا یہ کہ اس (کلمہ) کے حق کا تقاضا ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ (ﷺ) نے پڑھا:’’بس آپؐ تو نصیحت کرنے والے ہیں۔ ان پر مسلّط (جبرکرنے والے) نہیں ہیں۔‘‘ (سورة الغاشية: 21،22) [صحيح مسلم، حديث نمبر:128]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جب مصنف سند میں کسی نام کے بعد (یَعْنِيْ)
یا(ھُوَ)
کا اضافہ کر کے کسی نام یا نسبت کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس میں اس طرف اشارہ ہوتاہے کہ مصنف کے استاد نے اس نام یا نسبت کو ذکر نہیں کیا تھا، بلکہ مصنف نے توضیح وتعیین کےلیے ایسے کیا ہے۔
یا(ھُوَ)
کا اضافہ کر کے کسی نام یا نسبت کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس میں اس طرف اشارہ ہوتاہے کہ مصنف کے استاد نے اس نام یا نسبت کو ذکر نہیں کیا تھا، بلکہ مصنف نے توضیح وتعیین کےلیے ایسے کیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 21 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3341 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الغاشیہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں (جنگ جاری رکھو) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا (حقیقی) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذكر لست عليهم بمصيطر» ” آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں “ (الغاشیہ: ۲۲)، پڑھی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3341]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں (جنگ جاری رکھو) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا (حقیقی) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذكر لست عليهم بمصيطر» ” آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں “ (الغاشیہ: ۲۲)، پڑھی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3341]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیة: 22)
2؎:
بظاہراس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے، امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا، بعد میں ہوا۔
وضاحت:
1؎:
آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیة: 22)
2؎:
بظاہراس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے، امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا، بعد میں ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3341 سے ماخوذ ہے۔