حدیث نمبر: 3923
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ قَابُوسَ , قَالَ : قَالَت أُمُّ الْفَضْلِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي بَيْتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِكَ , قَالَ : " خَيْرًا رَأَيْتِ , تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلَامًا فَتُرْضِعِيهِ " , فَوَلَدَتْ حُسَيْنًا , أَوْ حَسَنًا , فَأَرْضَعَتْهُ بِلَبَنِ قُثَمٍ , قَالَتْ : فَجِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ , فَبَالَ فَضَرَبْتُ كَتِفَهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْجَعْتِ ابْنِي رَحِمَكِ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قابوس کہتے ہیں کہ` ام الفضل رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اچھا خواب دیکھا ہے ، فاطمہ کو اللہ تعالیٰ بیٹا عطا کرے گا اور تم اسے دودھ پلاؤ گی “ ، پھر جب حسین یا حسن ( رضی اللہ عنہما ) پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کو دودھ پلایا ، جو قثم بن عباس کا دودھ تھا ، پھر میں اس بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی ، اور آپ کی گود میں بٹھا دیا ، اس بچے نے پیشاب کر دیا ، میں نے اس کے کندھے پر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے میرے بچے کو تکلیف پہنچائی ہے ، اللہ تم پر رحم کرے “ ! ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 3923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18055 ، ومصباح الزجاجة : 1371 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة 137 ( 375 ) ، مسند احمد ( 6/339 ) ( ضعیف ) » ( سند میں قابوس اور ام الفضل رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے )