حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْتَبِرُوهَا بِأَسْمَائِهَا , وَكَنُّوهَا بِكُنَاهَا , وَالرُّؤْيَا لِأَوَّلِ عَابِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم خواب کی تعبیر اس کے نام اور کنیت کی روشنی میں بتایا کرو ، اور اس کی تعبیر سب سے پہلے بتانے والے کے مطابق ہوتی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 3915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يزيد الرقاشي: ضعيف, والأعمش عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 516
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1688 ، ومصباح الزجاجة : 1370 ) ( ضعیف ) » ( سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں ، لیکن «والرؤيا لأول عابر» کا صحیح شاہد موجود ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´خواب کی تعبیر کس طرح بیان کی جائے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم خواب کی تعبیر اس کے نام اور کنیت کی روشنی میں بتایا کرو، اور اس کی تعبیر سب سے پہلے بتانے والے کے مطابق ہوتی ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3915]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
بنا بریں خواب کى وہ تعبیر صحیح ہونا جو سب سے پہلے بیان کی جائے ضروری نہیں جیسے سابقہ حدیث کے فوائد میں تفصیل گزرچکی ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3915 سے ماخوذ ہے۔