سنن ابن ماجه
كتاب تعبير الرؤيا— کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : عَلاَمَ تُعْبَرُ بِهِ الرُّؤْيَا باب: خواب کی تعبیر کس طرح بیان کی جائے؟
حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْتَبِرُوهَا بِأَسْمَائِهَا , وَكَنُّوهَا بِكُنَاهَا , وَالرُّؤْيَا لِأَوَّلِ عَابِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم خواب کی تعبیر اس کے نام اور کنیت کی روشنی میں بتایا کرو ، اور اس کی تعبیر سب سے پہلے بتانے والے کے مطابق ہوتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´خواب کی تعبیر کس طرح بیان کی جائے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم خواب کی تعبیر اس کے نام اور کنیت کی روشنی میں بتایا کرو، اور اس کی تعبیر سب سے پہلے بتانے والے کے مطابق ہوتی ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3915]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم خواب کی تعبیر اس کے نام اور کنیت کی روشنی میں بتایا کرو، اور اس کی تعبیر سب سے پہلے بتانے والے کے مطابق ہوتی ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3915]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
بنا بریں خواب کى وہ تعبیر صحیح ہونا جو سب سے پہلے بیان کی جائے ضروری نہیں جیسے سابقہ حدیث کے فوائد میں تفصیل گزرچکی ہے۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
بنا بریں خواب کى وہ تعبیر صحیح ہونا جو سب سے پہلے بیان کی جائے ضروری نہیں جیسے سابقہ حدیث کے فوائد میں تفصیل گزرچکی ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3915 سے ماخوذ ہے۔