حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ وَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ , فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کل رات خواب دیکھا کہ میری گردن اڑا دی گئی ، اور میرا سر الگ ہو گیا ، میں اس کے پیچھے چلا اور اس کو اٹھا کر پھر اپنے مقام پر رکھ لیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب شیطان خواب میں تم میں سے کسی کے ساتھ کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 3912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الرؤیا 1 ( 2268 ) ، ( تحفة الأشراف : 2308 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/315 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2268 | سنن ابن ماجه: 3913

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2268 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ایک اعرابی کو جس نے آپ کے پاس آکر کہا، میں نے خواب دیکھا ہے، میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اس کا پیچھا کررہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ’’اپنے ساتھ نیند میں شیطان کی چھیڑ خانی کی خبر کسی کو نہ دو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5925]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سر کٹنے کی تعبیر، خواب دیکھنے والے کے حالات کے اختلاف کی بنا پر مختلف ہو سکتی ہے، امام مازری کہتے ہیں یہ پراگندہ خواب بھی ہو سکتا ہے، جس کا مقصد انسان کو رنج و الم میں مبتلا کرنا ہوتا ہے اور اس کا مقصد نعمت اور خوشحالی سے محرومی بھی ہو سکتا ہے، یہ بھی تعبیر ہو سکتی ہے کہ اس کا سردار اور آقا فوت ہو جائے گا، اس کا اقتدار ختم ہو جائے اور اس کے تمام حالات تبدیل ہو جائیں گے لیکن اگر یہ خواب دیکھنے والا غلام ہو تو یہ تعبیر ہو سکتی ہے کہ وہ آزاد ہو جائے گا اگر بیمار دیکھے تو وہ شفایاب ہو جائے گا، اگر مقروض دیکھے تو اس کا قرض ادا ہو جائے گا اگر اس نے حج نہیں کیا تو وہ حج کرے گا اگر یہ پریشان حال دیکھے تو اسے مسرت ملے گی، اگر خوف زدہ دیکھے تو اسے امن حاصل ہو گا ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ’’اصول العبارة‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اسے اپنی ایک آنکھ سے دیکھ رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا، کس آنکھ سے دیکھ رہا تھا؟ کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور لوگوں نے خواب کی تعبیر یہ لگائی کہ سر آپ تھے اور اس کی طرف دیکھنا آپ کی سنت کی پیروی ہے۔
(تکملہ ج 4 ص 455)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5925 سے ماخوذ ہے۔