حدیث نمبر: 3911
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَأْسِي ضُرِبَ فَرَأَيْتُهُ يَتَدَهْدَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَعْمِدُ الشَّيْطَانُ إِلَى أَحَدِكُمْ , فَيَتَهَوَّلُ لَهُ , ثُمَّ يَغْدُو يُخْبِرُ النَّاسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا ، اور عرض کیا : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی ، اور سر لڑھکتا جا رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں کو شیطان خواب میں آ کر ڈراتا ہے اور پھر تم اسے صبح کو لوگوں سے بیان بھی کرتے ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 3911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14198 ، ومصباح الزجاجة : 1369 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/364 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس نے خواب دیکھا کہ شیطان اس سے کھیل رہا ہے وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی، اور سر لڑھکتا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم لوگوں کو شیطان خواب میں آ کر ڈراتا ہے اور پھر تم اسے صبح کو لوگوں سے بیان بھی کرتے ہو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3911]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پریشان کن خواب کسی کو سنانا مناسب نہیں۔

(2)
انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے ایسے خواب کو اہمیت نہ دے بلکہ گزشتہ باب کی احادیث کے مطابق عمل کرے۔
اللہ کی رحمت سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3911 سے ماخوذ ہے۔