سنن ابن ماجه
كتاب تعبير الرؤيا— کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ , فَقَدْ رَآنِي , إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقیناً اس نے مجھے دیکھا ، کیونکہ شیطان کے لیے جائز نہیں کہ وہ میری صورت اپنائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1323 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1323- سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خوا ب میں دیکھا ہے کہ گویا میری گردن اڑادی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان آدمی کے ساتھ (خواب میں) جو مذاق کرتا ہے آدمی کسی کو وہ نہ بتائے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1323]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ شیطانی خوابوں کو آگے بیان نہیں کرنا چاہیے، صرف اچھے خواب بیان کرنا درست ہے، صرف تعبیر اس سے معلوم کرنی چاہیے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اور اہل علم ہو، ہر کسی سے نہیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ شیطانی خوابوں کو آگے بیان نہیں کرنا چاہیے، صرف اچھے خواب بیان کرنا درست ہے، صرف تعبیر اس سے معلوم کرنی چاہیے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اور اہل علم ہو، ہر کسی سے نہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1321 سے ماخوذ ہے۔