حدیث نمبر: 3898
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , قَالَ : " هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : «لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ( سورة يونس : ۶۳ ) ” ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے “ کے بارے میں سوال کیا ( کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 3898
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو سلمة لم يسمع من عبادة بل قال: ’’ نبئت عن عبادة ‘‘ فالخبر منقطع و للحديث شواھد ضعيفة عند الترمذي (2273) وغيره, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 516
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الرؤیا 3 ( 2225 ) ، ( تحفة الأشراف : 5123 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/315 ، 321 ) ، سنن الدارمی/الرؤیا 1 ( 2182 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2275

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں دیکھا جائے اس کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة» (سورة يونس: ۶۳) ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے کے بارے میں سوال کیا (کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3898]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اچھا خواب اپنے بارے میں بھی ہوسکتاہے۔
اور کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں بھی دونوں صورتوں میں یہ خوشخبری ہے۔
مثلاً ایک آدمی دیکھتا ہے کہ وہ کعبہ کا طواف کررہا ہے۔
یہ اس کا اپنے بارے میں خواب ہے۔
یا دیکھتا ہے کہ اس کا والد طواف کررہا ہے تو یہ اس کے والد کےبارے میں خوشخبری ہے۔

(2)
آخرت میں مومن کو جنت میں داخلے کی خوشخبری ملے گی۔
یہ روح قبض ہوتے وقت بھی ملتی ہے۔
اور قبر کے سوالات کے بعد بھی ملتی ہے۔
دایئں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنا بھی خوشخبری ہوگی۔
اعمال کا وزن ہوتے وقت نیکیوں کے پلڑے کا بھاری ہوجانا بھی خوشخبری ہے۔

(3)
فوت شدہ کواچھی حالت میں دیکھنا بھی خوش خبری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3898 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2275 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے کی تفسیر کا بیان​۔`
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2275]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(ابن ماجہ کی سند متصل ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2275 سے ماخوذ ہے۔