حدیث نمبر: 3894
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 3894
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الرؤیا ( 2264 ) ، ( تحفة الأشراف : 13284 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التعبیر 2 ( 6987 ) ، سنن ابی داود/الأدب 96 ( 5018 ) ، سنن الترمذی/الرؤیا 1 ( 2271 ) ، موطا امام مالک/الرؤیا 1 ( 3 ) ، سنن الدارمی/الرؤیا 2 ( 2183 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6990 | صحيح مسلم: 2263 | سنن ترمذي: 2291 | سنن ابي داود: 5017 | صحيفه همام بن منبه: 49

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں دیکھا جائے اس کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3894]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
''مومن''کےلفظ سے ظاہر ہوتا ہے۔
کہ کافر کا خواب سچا بھی ہو تو وہ اللہ کی طرف سے عزت افزائی کا باعث نہیں بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے کافر کو دنیا میں دوسری نعمتیں اورحکومت وغیرہ دے کر آزمایا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3894 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6990 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6990. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: (مبشرات) اچھے خواب ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6990]
حدیث حاشیہ: جن کے ذریعہ بشارتیں ملتی ہیں۔
اولیاء اللہ کے بارے میں آیت ﴿لَھُمُ البُشریٰ في الحیوةِ الدُّنیا﴾ میں ان ہی مبشرات کا ذکر ہے۔
جس دن سے خدمت قرآن مجید وبخاری شریف کا کام شروع کیا ہے بہت سے مبشرات اللہ نے خواب میں دکھلائے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6990 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6990 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6990. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: (مبشرات) اچھے خواب ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6990]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث مرض وفات میں بیان فرمائی، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں پردہ اٹھایا جبکہ آپ نے بیماری کی وجہ سے اپنا سر باندھ رکھا تھا اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے، آپ نےفرمایا: ’’لوگو! مبشرات نبوت سے اب صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں جنھیں ایک مسلمان دیکھتا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1074(479)
اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ جسے اچھا خواب آئے اسے نبوت کا کچھ حصہ مل جاتا ہے کیونکہ اس حدیث میں خواب کے معاملے کو نبوت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
اگر کوئی شخص أشھد ان لا إلٰه إلا اللہ بآواز بلند کہتا ہے تو اسے مؤذن نہیں کہا جاتا، حالانکہ یہ کلمہ اذان کا جز ہے۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اچھے خواب کو مبشرات سے تعبیر کرنا اغلبیت کی وجہ سے ہے کیونکہ کچھ خواب سچے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ مومن کو اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ مستقبل میں پیش آنے والے حادثے کے لیے خود کو تیار کر کے، یعنی مبشرات کے بجائے منذرات سے ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 470/12)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6990 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5017 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے (سلام پھیر کر) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5017]
فوائد ومسائل:
قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ خواب ایک حقیقت واقعہ ہے۔
یہ سچے اور جھوٹے دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔
سچے خواب اللہ عزوجل کی جانب سے اور جھوٹے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔
بلکہ انبیاء رسلﷺ کا تو خاصہ ہے۔
کہ ان کے خواب بالکل سچے اور وحی کی ایک قسم کے ہوتے ہیں۔
اور رسول اللہﷺ کی ابتدائے نبوت خواب ہی سے حاصل ہوئی تھی۔
اور عام مسلمانوں کے خواب جو وہ صحت واعتدال کی کیفیت میں دیکھے وہ بھی بالعموم سچے ہوتے ہیں۔
اور انہی کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔
البتہ ان کی تعبیر کا معاملہ خفا میں ہوتا ہے۔
کبھی تو کوئی صاحب علم اس کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے۔
اور کبھی اس کی تہ تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5017 سے ماخوذ ہے۔