سنن ابن ماجه
كتاب الدعاء— کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْبَلاَءِ باب: مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3892
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ , عَنْ أَبِي يَحْيَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , وَلَيْسَ بِصَاحِبِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سَالِم , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَجِئَهُ صَاحِبُ بَلَاءٍ , فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ , وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا , عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے : «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا ، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی “ ، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا ، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ہر قسم کی بلاؤں سے لیکن اگر یہ بلا دینی ہو جیسے کسی کو فسق اور فجور میں دیکھے تو یہ دعا پڑھے تاکہ اس شخص کو نصیحت ہو اور اگر دنیوی بلا ہو، جیسے کوڑھ، جذام وغیرہ تو آہستہ سے پڑھے کہ وہ شخص نہ سنے، اور اس کے دل کو رنج نہ ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا دعا پڑھے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی “، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3892]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی “، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3892]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس کے شواہد کا تذکرہ کیا ہے۔
جس سے شیخ البانی ہی کی رائے اقرب الصواب معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سلسلة الأحادیث الصحیة للأبانی، رقم 602، 2737)
(2)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر اپنی عافیت کی قدر معلوم ہوتی ہے۔
لہذا اللہ کے اس احسان پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
(3)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا آہستہ پڑھنی چاہیے۔
تاکہ وہ سن نہ لے ورنہ اسے رنج ہوگا۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس کے شواہد کا تذکرہ کیا ہے۔
جس سے شیخ البانی ہی کی رائے اقرب الصواب معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سلسلة الأحادیث الصحیة للأبانی، رقم 602، 2737)
(2)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر اپنی عافیت کی قدر معلوم ہوتی ہے۔
لہذا اللہ کے اس احسان پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
(3)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا آہستہ پڑھنی چاہیے۔
تاکہ وہ سن نہ لے ورنہ اسے رنج ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3892 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3431 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟`
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر “، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3431]
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر “، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3431]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا ومصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر۔
نوٹ:
(سند میں عمرو بن دینار قھرمان آل زبیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے اگلی حدیث)
وضاحت:
1؎:
سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا ومصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر۔
نوٹ:
(سند میں عمرو بن دینار قھرمان آل زبیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے اگلی حدیث)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3431 سے ماخوذ ہے۔