حدیث نمبر: 3886
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ بَيْتِهِ أَوْ مِنْ بَابِ دَارِهِ كَانَ مَعَهُ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهِ , فَإِذَا قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ , قَالَا : هُدِيتَ , وَإِذَا قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَا : وُقِيتَ , وَإِذَا قَالَ : تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ , قَالَا : كُفِيتَ , قَالَ : فَيَلْقَاهُ قَرِينَاهُ , فَيَقُولَانِ : مَاذَا تُرِيدَانِ مِنْ رَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے ، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں ، جب وہ «بسم الله» کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : تو نے سیدھی راہ اختیار کی ، اور جب وہ آدمی «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی «توكلت على الله» کہتا ہے ، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں ، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا ، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہو گیا ، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بے نیاز ہو گیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, هارون بن هارون: ضعيف, ولبعض الحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود (5095) وغيره, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13972 ، ومصباح الزجاجة : 1360 ) ( ضعیف ) » ( ہارون بن ہارون ضعیف ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3885

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´گھر سے نکلتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ «بسم الله» کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی «توكلت على الله» کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3886]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت بھی سنداً ضعیف ہے۔
شیخ البانی اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ مذکورہ روایت تو ضعیف ہے۔
تاہم یہی دعا فرشتوں اور شیطانوں کے ذکر کے بغیر حضرت انس ٭ سے صحیح سند سے مروی ہے لیکن حق اور راحج بات یہی ہے کہ یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
شیخ ؒ کو اس کی تصحیح میں وہم ہوا ہے- تفصیل کےلئے دیکھئے: (نتائج الأفکار 1/ 161)
بنا بریں گھر سے نکلنے کی کوئی بھی مسنون دعا ہمارے علم میں نہیں ہے جیسا کہ تفصیل گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3886 سے ماخوذ ہے۔