سنن ابن ماجه
كتاب الدعاء— کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ باب: رات میں آنکھ کھل جائے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3879
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ يَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُول مِنَ اللَّيْلِ : " سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " الْهَوِيَّ , ثُمَّ يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے : «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے : «سبحان الله وبحمده» ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کو جب نیند سے بیدار ہو تو جہاں تک ہو سکے کلمہ پڑھ کر دعا کرے، اور استغفار پڑھے، اور تسبیح یا تہلیل میں مشغول رہے، تو اس کو قیام اللیل کا ثواب مل جائے گا، لیکن افضل یہ ہے کہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے تہجد پڑھے، اگر کسی سے تہجد ادا نہ ہو سکے تو کم سے کم یہ ضروری ہے کہ بچھونے پر ہی رہ کر یہ کلمہ جتنی بار ہو سکے پڑھے اور استغفار کرے، اور دعا کرے، قیام اللیل اس قدر بھی ادا ہو جائے گا، اور جان لینا چاہیے کہ سلف صالحین نے قیام اللیل کبھی ترک نہیں کیا، اور وہ ضروری ہے اگرچہ تھوڑا سا ہی ہو یعنی ایک بار یہ کلمہ پڑھ کر دعا کر لے جیسا اس حدیث میں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´رات میں آنکھ کھل جائے تو کیا دعا پڑھے؟`
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے: «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے: «سبحان الله وبحمده» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3879]
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے: «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے: «سبحان الله وبحمده» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3879]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رات کی عبادت میں نماز اور تلاوت کے علاوہ بھی ذکر کیاجاسکتا ہے۔
(2)
ذکرالٰہی اتنی بلند آواز سے نہیں کرنا چاہیے کہ سوئے ہوئے افراد کی نیند خراب ہو تاہم اگر اتنی بلند آواز سے ہوکہ جاگتے ہوئے افراد سن لیں تو جائز ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رات کی عبادت میں نماز اور تلاوت کے علاوہ بھی ذکر کیاجاسکتا ہے۔
(2)
ذکرالٰہی اتنی بلند آواز سے نہیں کرنا چاہیے کہ سوئے ہوئے افراد کی نیند خراب ہو تاہم اگر اتنی بلند آواز سے ہوکہ جاگتے ہوئے افراد سن لیں تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3879 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3416 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´رات میں جاگنے پر پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔`
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس سوتا تھا، اور آپ کو وضو کا پانی دیا کرتا تھا، میں آپ کو «سمع الله لمن حمده» کہتے ہوئے سنتا تھا، نیز میں آپ کو «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے ہوئے سنتا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3416]
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس سوتا تھا، اور آپ کو وضو کا پانی دیا کرتا تھا، میں آپ کو «سمع الله لمن حمده» کہتے ہوئے سنتا تھا، نیز میں آپ کو «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے ہوئے سنتا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3416]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی: جب آپﷺ رات میں اٹھا کرتے تو یہ دونوں دعائیں کافی دیرتک پڑھتے تھے یا کبھی یہ اور کبھی وہ پڑھتے تھے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی: جب آپﷺ رات میں اٹھا کرتے تو یہ دونوں دعائیں کافی دیرتک پڑھتے تھے یا کبھی یہ اور کبھی وہ پڑھتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3416 سے ماخوذ ہے۔