حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ , إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ , وَضَعَ يَدَهُ يَعْنِي : الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ , ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے ، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے : «اللهم قني عذابك يوم تبعث ( أو تجمع ) عبادك» ” اے اللہ ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9617 ، ومصباح الزجاجة : 1358 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/394 ، 400 ، 414 ، 443 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بستر پر لیٹتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر (یہ دعا) پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تبعث (أو تجمع) عبادك» اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3877]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیند موت کی یاد دلاتی ہے۔
جس کے بعد اٹھ کر اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اس لئے سوتے وقت قیامت کے عذاب سے پناہ مانگنا مناسب ہے۔

(2)
رسول اللہ ﷺ اللہ کے مقرب ترین اور افضل ترین بندے ہیں۔
جن کے بارے میں عذاب کاتصور بھی ممکن نہیں اس کے باوجود آپ ﷺ نے یہ دعا پڑھی۔
تاکہ عبودیت کا اعتراف اور مومنوں کے لئے نمونہ ہو۔

(3)
مذکورہ حدیث میں دعا پڑھنے کی بابت یہ مروی نہیں کہ مذکورہ دعا کتنی مرتبہ پڑھنی ہے البتہ ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مذکورہ دعا تین بار پڑھتے تھے دیکھئے: (سنن إبي داؤد، الأدب، مایقول عند النوم، حدیث: 5045)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3877 سے ماخوذ ہے۔